دلشاد احمد ۔۔۔ دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے

دریا کنارے بیٹھا بھی پیاسا لگا مجھے
میلے میں آ کے بھی کوئی تنہا لگا مجھے

مسکاں منافقت کی مرا دل جلا گئی
دشمن کا منہ پہ بولنا اچھا لگا مجھے

ہر سانس جیسے وجہِ شکستِ وجود ہے
ہر لمحہ ایک گھن کی طرح سا لگا مجھے

جیسے ٹریڈ مل پہ ہوں اور چل نہیں رہا
ایسا بھی ہو رہا ہے کچھ ، ایسا لگا مجھے

آتا گیا قریب تو کھلتا چلا گیا
اک شخص جو کہ دُور سے اچھا لگا مجھے

دیکھا اُسے جو پیار کا چشمہ اتار کر
اِتنا بڑا نہیں تھا وہ جتنا لگا مجھے

بے وجہ کا مبالغہ اچھا نہیں میاں
جو جس قدر بلند تھا، اُتنا لگا مجھے

وہ جسم سے قریب تھا پر روح سے نہیں
دلشادؔ ساری عمر جو اپنا لگا مجھے

Related posts

Leave a Comment